پیار کرنے والے جوڑوں کے درمیان جنسی تعلقات کو اطمینان بخش اور پُر لطف ہونا چاہئے اور ان تعلقات کے نتیجے میں بچّے پیدا ہوسکتے ہیں اور خاندان بننا شروع ہو سکتا ہے۔جنسی ملاپ کو محفوظ بھی ہونا چاہئے ۔محفوظ جنسی ملاپ سے مُراد یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو اور اپنے ساتھی کو جنسی امراض سے بچایا جائے، بچّوں کے درمیان وقفہ ہو اور پہلے بچّے کی پیدائش کے وقت میں مطلوبہ تاخیر ہو۔
دُرست مانع حمل کا انتخاب کس طرح کیا جائے
مانع حمل طریقوں، آلات اور ادویات کے استعمال کے سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ متعلقہ فرد کے لئے کون سا طریقہ، آلہ یا دوا مناسب ہے۔اِن طریقوں یا اشیاء میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آتی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ آپ کو یقینی طور پر معلوم ہو کہ آپ حاملہ نہیں ہیں اورڈاکٹر کے مشورے کے مطابق، خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے پر عمل شروع کرنے سے پہلے، اگلی ماہواری آنے تک انتظار کیجئے۔
پاکستان میں دستیاب مانع حمل طریقوں، آلات اور ادویات کی قِسموں سے متعلق ویب سائٹس کے بارے مزید معلومات حاصل کیجئے۔
ایمرجنسی میں مانع حمل، مختصر مُدّت کے مانع حمل، وسط مدّت، طویل مُدّت کے مانع حمل، مستقل مانع حمل، قدرتی طریقے
مختلف قِسم کے دستیاب مانع حمل درجِ ذیل ہیں:
ایمرجنسی میں مانع حمل
ایمر جنسی مانع حمل کا طریقہ، غیر محفوظ جنسی ملاپ کے بعد ہونے والے ممکنہ حمل کو روکنے کے لئے اختیار کیا جاتا ہے۔ اِس کے ذریعے جنسی طور پر منتقل ہونے والے امراض سے بچاؤ ممکن نہیں، یہ بچاؤ صِرف کنڈومز کے استعمال کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔
ایمر جنسی مانع حمل کی اشیاء اور ادویات، آسانی سے مقامی میڈیکل اِسٹورز سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔مشاورت اور متبادل طریقوں پر معلومات کے لئے بِلا معاوضہ ٹیلی فوں نمبر 22333 - 0800 پر رابطہ کیجئے،یا ہمارے پینل کے ماہرین سے 24گھنٹوں کے اندر جواب حاصل کرنے کے لئے درجِ ذیل پتے پر ای میل کے ذریعے رابطہ کئجئے:
ای میل کا پتہ: advice@srhmatters.org
مختلف قِسم کے مانع حمل طریقے درجِ ذیل ہیں:
ایمرجنسی کی صورت میں استعمال ہونے والی مانع حمل گولیاں (ECP)۔
- پاکستان میں ،عام طور پردستیاب ایمرجنسی مانع حمل گولیوں (ECPs) میں،صِرف پراجسٹن شامل ہوتا ہے۔
- غیر محفوظ جنسی ملاپ کرنے کے بعد ،غیر مطلوبہ حمل کو روکنے کے لئے متعلقہ عورت کو،120 گھنٹوں کے اندر ، ایمرجنسی مانع حمل گولی (ECP) استعمال کرلینا چاہئے۔
- اگر 2 گولی کا فارمولا استعمال کیا گیا ہے توپہلی گولی کو غیر محفوظ جنسی ملاپ کرنے کے بعد 5 دِن کے اندر جلد از جلد استعمال کرنا چاہئے اور دوسری گولی کو 12 گھنٹوں کے بعد استعمال کرنا چاہئے۔
- غیر محفوظ جنسی ملاپ کرنے کے بعد ،120 گھنٹوں کے اندر ایمرجنسی مانع حمل گولی (ECP)استعمال کرنے والی100عورتوں میں سے تقریبأٔ 2 سے 8 عورتیں حاملہ ہو سکتی ہیں۔
- پہلے ہی سے بار آوری ہونے کی صورت میں یہ گولیاںکم مؤثر ہوتی ہیں۔اگر متعلقہ عورت گولیاںلینے سے پہلے حاملہ ہو چکی ہے تو یہ گولیاں حمل میں خلل نہیں ڈالتیں لیکن خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔
- غیر محفوظ جنسی ملاپ کے بعد جس قدر جلد یہ گولیاں استعمال کی جائیں اُتنا ہی یہ مؤثر ہوتی ہیں۔
- ‘صبح کے بعد’ کی گولی کانام قدرے غلط فہمی پیدا کرتا ہے کیوں کہ اس گولی کو غیر محفوظ جنسی ملاپ کے فورأٔ بعد،اگلی صبح کا انتظار کئے بغیر استعمال کر لینا چاہئے۔
- یہ گولیاں جنسی طور پر منتقل ہونے والے امراض سے بچاؤ فراہم نہیں کرتیں۔جنسی ملاپ کرنے والے جوڑوں کو اِن امراض سے بچاؤ کے لئے ہمیشہ کنڈوم استعمال کرنا چاہئے خواہ مانع حمل کے دِیگر طریقے بھی اختیار کئے ہوں۔
- ایمر جنسی کی مانع حمل گولیاں لینے والی عورتوں کو معمول سے زیادہ ہارمونز کی وجہ سے ذیلی اثرات ہو سکتے ہیں۔ مثلأٔ متلی، اُلٹی ہونا (قے ہونا)، چھاتیوں میں دُکھن، اور سَر درد وغیرہ۔یہ ذیلی اثرات عام طور پر ایک سے دَو دِن کے اندر ختم ہو جاتے ہیں۔
- ایمرجنسی کی مانع حمل گولیاں لینے کے بعد عارضی طور پر ماہواری میں بے قاعدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
بچّہ دانی کے اندر رکھے جانے والے آلات (IUCD):
- غیر محفوظ جنسی ملاپ کے بعد 7 دِن کے اندر، بچّہ دانی میں رکھا جانے والا آلہ،ایمرجنسی مانع حمل کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ بہت محفوظ ہوتا ہے اور دُنیا بھر میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔
- یہ ایک چھوٹا آلہ ہوتا ہے جسے بچّہ دانی کے اندر5 سے 10سال تک رکھا جاسکتا ہے۔ اِس مُدّت کے دوران حمل قائم نہیں ہوگا۔
- ایمر جنسی کی گولیوں کے بر عکس یہ آلہ، زیر تکمیل جنین کے بچّہ دانی سے جُڑنے کو روکنے کے بجائے ،بار آوری کو روکتا ہے،لہٰذا یہ اسقاط کے لئے جلد استعمال کی جانے والی چیز نہیں ہے۔ اِس سے تانبہ خارج ہوتا ہے جس کی وجہ سے منی کے جرثومے مَر جاتے ہیں اور حمل قائم نہیں ہوتا۔
- ایمرجنسی میں اِس آلے کو بچّہ دانی میں رکھنا نہایت مؤثر ہے۔ اگر غیر محفوظ جنسی ملاپ کے بعد 7 دِن کے اندر یہ آلہ استعمال کیا جائے تو 99.9 فیصد تک حمل روکنے میں مؤثر ہوتا ہے ۔
- اِس آلے کے استعمال ایک ممکنہ ذیلی اثر یہ ہے کہ ماہواری کے دورانیوں کے درمیان خون آسکتا ہے۔
اِس آلے کے بارے میں مزید معلومات کے لئے براہِ کرم ٹیلی فون نمبر 0800 22333 پر بِلا معاوضہ کال کیجئے یا اِس آلے کے کام کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں مزید معلومات 24 گھنٹوںکے اندر حاصل کرنے کے لئے ہمارے پینل اِسپیشلشٹ کو درجِ ذیل پتے پر ای میل کیجئے ۔
advice@srhmatters.org
مختصر مُدّت کے مانع حمل
مشترکہ گولیاں:
اگر ماہواری کے دورانئے کے آغاز سے پانچ دِن کے اندرCOCPs استعمال کر لی جائیںتو پہلی ہی گولی مؤثر ثابت ہوتی ہے ۔ اگر ماہواری کے دورانئے کے دوران کسی اور وقت یہ گولیاں لی جائیں تو سات دِن تک اِن گولیوں کومسلسل طور پر استعمال کرنے ہی کی صورت میں یہ مؤثرہوتی ہیں ،لہٰذا احتیاط کے طور پر اِس عرصے میں کنڈومز کا استعمال کیا جائے ۔اِن گولیوں کی تاثیر بڑھانے کے لئے انہیں روزانہ تقریبأٔ ایک ہی وقت پر اِن گولیوں کا استعمال کیا جائے ۔اگر مقررہ وقت کے بعد لی جائیں یا اُلٹی ہونے یا دست/اسہال کے بعد لی جائیںتو یہ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔
اِس گولی میں ایسٹروجین اور پروجسٹرون شامل ہوتے ہیں اور اِس کے اثر کی وجہ سے عورت میں انڈہ بننے کا عمل رُک جاتا ہے۔
فوائد: بچّہ دانی اور بیضہ دانیوں کے سرطان سے بچاتی ہے اور ہڈّیوں کے بُھر بُھرے پن کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔ ماہواری میں با قاعدگی پیدا کرتی ہے اورماہواری سے پہلے کے تناؤ (PMS) کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اور اِس کے کوئی دیرپا ذیلی اثرات بھی نہیں ہیں اور کنڈومز کی طرح جنسی ملاپ میں خلل بھی پیدا نہیں ہوتا۔
اپنی چھاتیوں سے بچّے کو دُودھ نہیں پِلانے کی صورت میں،مائیں یہ گولیاں بچّے کی پیدائش سے 6 ہفتے بعد سے استعمال کر سکتی ہیں۔
نقصانات: بعض عورتوںمیں، چند ہفتوں تک، حمل کی ابتدائی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اگر یہ گولی رات کو کھانے کے بعد لی جائے تو یہ علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔دِیگر ذیلی اثرات میں، سَر درد؛ جسم میں پانی کا جمع ہونا؛ وزن میں اِضافہ یا بعض کے لئے ڈپریشن جیسے ذیلی اثرات ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کی عمر 35سال سے زائد ہے اور آپ تمباکو نوشی کرتی ہیں؛ ذیابیطیس یا ہائی بلڈ پریشر کا مرض ہے تو یہ گولی تجویز نہیں کی جاتی۔ اگر آپ اپنے بچّے کو اپنا دُودھ پلاتی ہیں تو اِس گولی کا ہارمون دُودھ کے ذریعے آپ کے بچّے کو پہنچ سکتا ہے اور آپ کے دُودھ کی مقدار بھی کم ہو سکتی ہے۔ یہ گولی جنسی امراض سے نہیں بچاتی، صِرف کنڈومز ہی کے ذریعے جنسی امراض سے بچاؤ ممکن ہے!
مؤثر ہونا:اگر ہدایات کے مطابق لی جائیں تو 99 فیصد مؤثر ہوتی ہیں ۔ ایک سال کے دوران 100 میں سے ایک عورت حاملہ ہو سکتی ہے۔
یہ گولی روزانہ ایک ہی مقررہ وقت پر لینا چاہئے ۔اگر 3 گھنٹے سے زیاد ہ دیر بعد لی جائیں یا اُلٹی ہونے یا دست/اسہال کے بعد لی جائیںتو یہ گولیاں مؤثر نہیں رہتیں۔
چھوٹی گولی (Mini Pill)
یہ گولی بھی عورتیں استعمال کرتی ہیں۔ یہ گولی بچّہ دانی کے مُنہ کی رطوبتوں کو گاڑھا کر دیتی ہے اور اِس طرح منی کے جرثوموں کا بچّہ دانی تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے۔
فوائد:
اگر آپ کا وزن زیادہ ہے؛ہائی بلڈ پریشر ہے؛ تمباکو نوشی کرتی ہیں؛ عمر 40 سال سے زیادہ ہے یا بچّے کو اپنا دُودھ پلاتی ہیں تو آپ یہ گولی استعمال کر سکتی ہیں۔
نقصانات:
اِسے روزانہ ایک مقّررہ وقت پر لینا ہوتا ہے۔ اور اگر آپ بچّے کو اپنا دُودھ پلاتی ہیں تو کسی قدر اِس بات کا امکان ہے کہ پروجسٹرون سے آپ کے بچّے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ گولی جنسی امراض سے نہیں بچاتی، صِرف کنڈومز ہی کے ذریعے جنسی امراض سے بچاؤ ممکن ہے!
مؤثر ہونا: اگر ہدایات کے مطابق لی جائیں تو 99ف یصد مؤثر ہوتی ہیں ۔ ایک سال کے دوران 100میں سے ایک عورت حاملہ ہو سکتی ہے۔
یہ گولی روزانہ ایک ہی مقررہ وقت پر لینا چاہئے ۔اگر 3 گھنٹے سے زیاد ہ دیر بعد لی جائیں یا اُلٹی ہونے یا دست/اسہال کے بعد لی جائیںتو یہ گولیاں مؤثر نہیں رہتیں۔
کنڈوم:
کنڈوم ربر سے بنا ہُوا ایک غلاف ہوتا جسے تنے ہوئے عضو تناسل پر پہنا جاتا ہے۔ یہ منی کے جرثوموں کو عورت کی فُرج میں داخل نہیں ہونے دیتا۔کنڈومز کے زیادہ استعمال سے عورت کی فُرج میںخشکی پیدا ہوسکتی ہے۔چکناہٹ پیدا کرنے کے لئے تیل کا استعمال تجویز نہیں کیاجاتاکیوں کہ اِس سے کنڈوم پھٹ سکتا ہے۔ لہٰذا چکنائی والے کنڈومز استعمال کرنا چاہئے۔
فوائد:
کنڈومز کو استعمال کرنا آسان ہے اور اِن کی وجہ سے صحت کو کوئی خاص خطرات لاحق نہیں ہوتے۔ یہ با آسانی ہر جگہ دستیاب ہوتے ہیں۔بہت سے کنڈومز میں منی کے جرثوموں کو مارنے والی دوا شامل ہوتی ہے جس کی وجہ سے حمل قائم نہیں ہوتا۔کنڈومز کے ذریعے جنسی ملاپ محفوظ ہو جاتا ہے۔ بازار میں بہت سی قِسموں کے کنڈومز دستیاب ہیں اور بعض کا خصوصی ڈیزائن جنسی ملاپ کے لطف کو بڑھا دیتا ہے۔
نقصانات:
کنڈومز کے استعمال میں سب سے زیادہ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ عضو تناسل پر کنڈوم پہننے کے لئے، جنسی سرگرمی کو کچھ دیر تک روکنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات جنسی ملاپ کے دوران کنڈومزپھٹ جاتے ہیں یا پھسل کر عضو تناسل سے اُتر جاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں کنڈومز کی وجہ سے جنسی لطف میں کمی محسوس ہوتی ہے۔
مؤثر ہونا:اگر ہدایات کے مطابق استعمال کیا جائے %98 تو مؤثر ہوتا ے۔
کنڈوم استعمال کرنے کے لئے ہدایات:

وسط مدّت:
انجکشنز:
اِس میں پروجسٹرون شامل ہوتا ہے اور اِس کے اثر کی وجہ سے عورت میں انڈہ بننے کا عمل رُک جاتا ہے۔
فوائد:
ذیابیطیس اور ہائی بلڈ پریشر والے لوگ اِن کا استعمال محفوظ طور پر کر سکتے ہیں۔ اور اِس کے اثرات دیر پا ہوتے ہیں۔ انجکشن ہر 6ماہ پر لگایا جاتا ہے۔
نقصانات:
وزن میں اِضافہ، متلی، بے قاعدگی سے خون آنا ذیلی اثرات کے طور پرظاہر ہو سکتے ہیں۔ بار آوری بحال ہونے میں ایک سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
مؤثر ہونا: انجکشن 99.7% تک مؤثر ہیں۔
اِمپلانٹ (نورپلانٹ Norplant
یہ ایک لچک دار ٹیوب ہوتی ہے جسے بازو کی جِلد کے اندر رکھا جاتا ہے۔ اِس کے ذریعے پروجسٹوجین نامی ہارمون خارج ہوتا ہے۔اِس کے ذریعے انڈے بننے کا عمل رُک جاتا ہے ، بچّہ دانی کے مُنہ کی رطوبت گاڑھی ہو جاتی ہے تاکہ منی کے جرثومے انڈے تک پہنچ نہ سکیں اور بچّہ دانی کا استر پتلا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بارآور ہونے والا انڈہ اِس کے ساتھ پیوست نہیں ہو سکتا۔
فوائد:
یہ تین سال تک مؤثررہتا ہے اور اِسے کسی بھی وقت باہر نکالا جا سکتا ہے ۔جب تک یہ اِمپلانٹ مؤثررہتا ہے تو آپ کو کسی مانع حمل شے یا طریقہ استعمال کرنے کے بارے میں کوئی فکر نہیں رہتی۔جب یہ اِمپلانٹ نکال دِیا جاتا ہے تو ،بارآوری کی معمول کی سطح پلٹ آتی ہے۔
نقصانات:
ماہواری کے اےّام اکثر اوقات بے قاعدہ ہوجاتے ہیں۔اِن اےّام کے دِنوں کا وقفہ بڑھ جاتا ہے اور کم از کم پہلے سال کے دوران یہ مکمل طور پر بھی ختم ہوجاتے ہیں۔بعض عورتوں کا وزن بڑھ جاتا ہے ۔دِیگر ذیلی اثرات میں سَر درد، جِلد پر دھبّے ہونا، مزاج میں تبدیلی اور چھاتیوں میں دُکھن ہونا شامل ہیں۔
مؤثر ہونا
یہ اِمپلانٹ 99 فیصد سے زیادہ مؤثر ہے ۔بعض ادویات سے اِس اِمپلانٹ کا کا م رُک جاتا ہے لہٰذ ا جب ڈاکٹر سے ملاقات کریں تو اُسے اِس اِمپلانٹ کے بارے میں ضرور آگاہ کیجئے ۔
طویل مُدّت کے مانع حمل
بچّہ دانی کے اندر رکھّا جانے والا آلہ (IUD)
یہ پلاسٹک یا دھات سے بنا ہُوا، ایک چھوٹا آلہ ہوتا ہے جسے متعلقہ عورت کی بچہ دانی کے اندر رکھّا جاتا ہے تا کہ منی کے جرثومے بچّہ دانی کی اندرونی سطح سے جُڑ نہ سکیں۔
فوائد:
یہ آلہ اپنی جگہ پر رکھّے جانے کے فوری بعد مؤثر ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے چھاتیوں سے دُودھ پِلانے یا ہارمونز پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔یہ آلہ ڈاکٹر یا تربیت یافتہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے ،متعلقہ عورت کی بچّہ دانی کے اندر رکھتے ہیں ۔اِس آلے کے استعمال سے 5سال تک حمل نہیں ہوگا۔
نقصانات:
بعض اوقات اِس آلے کے استعمال سے ماہواری کے خون کا بہاؤ بہت بڑھ سکتا ہے اور بچّہ دانی میں اینٹھن یا مروڑ کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ آلہ جنسی امراض سے نہیں بچاتا، صِرف کنڈومز ہی کے ذریعے جنسی امراض سے بچاؤ ممکن ہے!
مؤثر ہونا: انجکشن 99 فیصدتک مؤثر ہیں۔
عمل کو پلٹانا: ممکن ہے۔

مستقل مانع حمل
مَردوں کے لئے:
مَردوں کی نَس بندی ایک طبّی عمل ہے جس میں منی کی نالیوں کے کچھ حِصّوں کو باندھ کر کاٹ دیا جاتا ہے اور اِس طرح متعلقہ مَرد کسی عورت کو حاملہ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ نَس بندی کے عمل میں خُصّیے نہیں نکالے جاتے اور اِس سے مَردانہ ہارمونز(mainly tetosterone) کی افزائش پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتااور وہ خون میں پہلے کی طرح شامل ہوتے رہتے ہیں۔ لہٰذا،اِس عمل سے جنسی خواہش میں کمی نہیں آتی ۔ نَس بندی جنسی امراض سے نہیں بچاتی، صِرف کنڈومز ہی کے ذریعے جنسی امراض سے بچاؤ ممکن ہے!
عمل کو پلٹانا
ممکن ہے، لیکن یہ عمل مہنگا ہے اور اِس میں کامیابی کی شرح کم ہوتی ہے ۔!

عورتوں کے لئے:
عورتوں میں یہ عمل نَل بندی کے ذریعے کیا جاتا ہے، یعنی متعلقہ عورت کے نَلوں کو باندھ کر کاٹ دیا جاتا ہے۔
دونوں اقسام یعنی نَس بندی اور نَل بندی کی نوعیت مستقل ہوتی ہے یعنی اِس عمل کو پلٹایا نہیں جا سکتا۔ اِس سے مَردوں اور عورتوں کی، جنسی ملاپ سے لطف حاصل کرنے کی صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔ یہ عمل جنسی امراض سے نہیں بچاتا، صِرف کنڈومز ہی کے ذریعے جنسی امراض سے بچاؤ ممکن ہے!
عمل کو پلٹانا
بعض اوقات ممکن ہے۔

قدرتی طریقے اور کیلنڈر
وقفے سے ہم آہنگی کا طریقہ یا بارآوری سے آگہی: انڈے خارج ہونے کا عمل، دَو ماہواریوں کے درمیانی دِنوں میں ہوتاہے، لہٰذا جنسی ملاپ کے لئے ’محفوظ‘ وقت معلوم کرنے کے لئے ماہواری۔
فوائد:
ضبطِ ولادت کے اِس قدرتی طریقے کے کوئی ذیلی اثرات نہیں ہوتے۔
نقصانات:
جنسی ملاپ پر پابندی ہوتی ہے جس کی وجہ سے جوڑوں کے جنسی تعلقات میں ذہنی کھنچاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ ماہواری باقاعدہ نہ ہونے کی صورت میں، تاریخوں کے حساب میں غلطی ہوسکتی ہے۔ اِس طرح یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ جنسی ملاپ کے لئے ’محفوظ‘ مُدّت کون سی ہے۔
وقفہ کے طریقے سے بارآوری معلوم کرنے کا ایک سادہ حساب ذیل میں بیان کیا گیا ہے :
دورانیہ کا حساب لگانے کے لئے اپنی ماہواری کے دِنوں کا 6ماہ تک مشاہدہ کیجئے۔
پہلے دِن کو روزِ اوّل کہا جاتا ہے۔
اپنے مختصر ترین دورانئے میں سے 18دِن تفریق کریں۔ ۔ ۔ اِس سے آپ کو بارآوری کااندازأٔ پہلا دِن معلوم ہوگا۔
اپنے طویل ترین دورانئے میں سے 1 1دِن تفریق کریں۔ ۔ ۔ اِس سے آپ کو بارآوری کااندازأٔ آخری دِن معلوم ہوگا۔
بارآوری کی مُدّت میں جنسی ملاپ سے گریز کیا جائے؛ رُکاوٹ کو طریقہ اختیار کیا جائے یا انزال سے پہلے عضو تناسل کو فُرج سے باہر نکال لیا جائے، تا کہ ممکنہ حمل سے بچا جا سکے۔
جنسی ملاپ سے گریز: جنسی ملاپ کو ترک کرنے یا گریز کرنا۔یہ عام طور پر وہ وقت ہوتا ہے جب عورت کے جسم میں انڈے بن رہے ہوتے ہیں ۔ ایسا کرنے کے لئے نظم و ضبط کی ضرورت ہوتی ہے اور عام طور پر یہ طریقہ زیادہ قابلِ اعتمادبھی نہیں ہے۔ ہے جیسا کہ وقفے کے طریقے میں بیان ہو چکا ہے۔
عزل: اِس طریقے میں عضوتناسل کو انزال سے پہلے فُرج سے باہر نکال لیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ ایسے مَردوں کے لئے مناسب نہیں جواپنے انزال کا دُرست اندازہ نہیں کر سکتے۔ البتّہ کوئی طریقہ استعمال نہ کرنے سے عزل بھی بہتر ہے۔ لیکن ضبط وِلادت کے دُوسرے زیادہ مؤثرطریقوں کی موجودگی میں عزل ایک محفوظ طریقہ نہیں ہے۔
عزل: عزل جنسی امراض سے بچاؤ کے لئے مؤثر طریقہ نہیں ہے۔ جنسی امراض سے بچاؤ کے لئے واحد مؤثر طریقہ کنڈومز کا استعمال ہی ہے!
اگر اب بھی کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب اِس صفحے پر موجود نہیںیا آپ کو اپنے لئے یا اپنے کسی دوست کے لئے مدد کی ضرورت ہو تو 24گھنٹوں کے اندر جواب حاصل کرنے کے لئے درجِ ذیل پتے پر لکھئے:
counselor@srhmatters.org یا advice@srhmatters.org